زبان کے زخم


ہم اکثر جسمانی زخموں کے تکلیف سے تڑپتے ہیں، مرہم لگاتے ہیں، دوائیں لیتے ہیں، مگر کیا کبھی ایسا ہوا ہے؟ کہ کسی کے منہ سے نکلے ہوئے چند الفاظ نے آپ کو اندر سے چیر کر رکھ دیا ہو؟ ایسا زخم جس کا کوئی ظاہری نشان نہیں، لیکن وہ دل کے اندر دیر تک جلتا ہے؟

یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ لفظوں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے، مگر اکثر لوگ الفاظ کی طاقت کو نہیں سمجھتے۔ ایک سخت جملہ، ایک طنزیہ بات، یا ایک توہین آمیز تبصرہ!
 یہ سب بظاہر چھوٹی چیزیں لگتی ہیں، مگر کئی دلوں کو اندر ہی اندر توڑ دیتی ہیں۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منسوب ایک قول ہے:
"کہ زبان ایک شیر کی مانند ہے، اگر تم اسے آزاد چھوڑ دو گے تو یہ کسی کو زخمی کر دے گی۔"
لفظوں کے زخم اس لیے زیادہ گہرے ہوتے ہیں کیونکہ وہ بار بار ذہن میں گونجتے ہیں ان کا علاج صرف وقت کا انتظار اور صبر ہے ۔
بعض اوقات ایسے الفاظ اعتماد، تعلقات اور شخصیت کو توڑ دیتے ہیں

ہمیشہ بولنے سے پہلے سوچیں ۔ دوسرے کے دل کا خیال رکھیں اور اگر کبھی کسی کو الفاظ سے تکلیف دی ہو تو معذرت ضرور کریں


زبان ایک نعمت ہے، لیکن جب یہ زہر بن جائے تو تعلقات، اعتماد اور سکون سب کچھ چھین لیتی ہے۔
الفاظ بولنے سے پہلے تو ہمارے غلام ہوتے ہیں، مگر بولنے کے بعد ہم ان کے۔

0 Comments